کاروار:14/اپریل(ایس اؤنیوز) مچھروں سے کون پریشان نہیں ہے، رات میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کئے گئے تو پوری نیند غائب اور مچھروں پر لعنت وملامت کرتےہوئے اپنا غصہ نکالا جاتاہے۔ کئی کیمکل دوائیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں، جن کےمتعلق کہا جاتاہے کہ یہ مچھروں کے ساتھ انسانوں کے لئے بھی خطرناک ہیں۔ لیکن اب ریاستی حکومت عوام کو مچھروں سے راحت دینے کے لئے رواں سال ایک اہم پروگرا م شروع کرنے جارہی ہے۔ مچھروں کو دور بھگانے اور ان کے ازالے کے لئے کار آمد 14نسل کے پودوں کا پتہ لگایا گیا ہے، ان پودوں کو ریاست کے عوام میں مفت تقسیم کرکے اس کی افزائش کے لئے انہیں ترغیب دیا جائے گا۔ ریاست کے محکمہ آیوش ڈائرکٹوریٹ نے کل 10کروڑ روپئے مالیت کا ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ آئندہ منائے جانے والے ون مہوتسوا کے موقع پرمتعلقہ منصوبے کو جاری کئے جانےکی صحت عامہ اور خاندانی فلاح بہبودی سے منسلک ریاستی حکومت کی جنرل سکریٹری شالنی رجنیش نے اطلاع دی ۔
ریاست میں گینڈاپھول (Mari Gold)، جزائر شرق الہند کی ایک گھاس (Lemon gra)،ریحان (تلسی ، Basil)،لیونڈر کا پھول (Lavender)، Negundo Vitex سمیت 14نسل کے پودوں کے متعلق سائنٹفک طورپر ثابت ہواہے کہ یہ پودے فطری انداز میں مچھروں کو دور کرتے ہیں۔ ان پودوں سے نکلنے والی مخصوص بو سے مچھر خود بخود دور جانے کے لئے مجبورکرتی ہے۔
اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے محکمہ باغبانی اور فاریسٹ کو شریک کیا گیا ہے، متعلقہ نسل کےپودوں کو عوام میں مفت تقسیم کرنے کے لئے دونوں محکمہ جات سے اپیل کی گئی ہے۔ محکمہ کا خیال ہے کہ یہ ایک مکمل قابل عمل منصوبہ ہے ،مچھروں سے پھیلانے والی ڈینگو، چکن گنیا یا ملیریا جیسی بیماریوں کی روک تھام میں یہ بہت کارگر اور مفید آور ہوگا۔ ایسی خصوصیات کے پودوں کو اگانا اور اس کی افزائش کرنا ضروری ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ ویسے ان متعدی بیماریوں کی روک تھام اور مچھروں کو دورکرنے کے لئے فاگنگ وغیرہ کئےجاتے ہیں لیکن حکومت جڑی بوٹیوں کے طریقے کو نافذ کرنے کے لئے ریاستی حکومت نے طئے کیا ہے۔ قومی صحت عامہ مہم کے آیوش کے معاون ڈائرکٹر تمپا شٹیگار نے بتایا کہ جون 7کو منائے جانے والے ون مہوتسوا کے دن ریاست بھر میں منصوبے کا افتتاح کیاجائے گا، 10.56کروڑروپیوں کی مالیت سے جاری ہونے والے اس منصوبے کے ذریعے فی تعلقہ 1.5لاکھ پودے مفت میں عوام کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنے ماحول میں ان پودوں کی نصب کاری کرتے ہوئے مچھروں سے نجات حاصل کرسکیں۔
ڈینگو، چکن گنیا اور ملیریا جیسی خطرناک بیماریاں مچھروں سے پھیلتی ہیں، ریاست میں سال 2016کے جنوری میں 67ڈینگو اور23چکن گنیا کے معاملات اور فروری میں 116ڈینگو اور 87چکن گنیا معاملات کا پتہ چلا تھا۔ امسال یعنی 2017کے جنوری میں 86ڈینگو اور 33چکن گنیا ، فروری میں 105ڈینگو ،54چکن گنیا معاملات سامنے آئے ہیں۔ سال 2016میں ریاست بھر سے 6000لوگ ڈینگو سے متاثر ہوکر 8لوگ ہلاک ہوئے تھے اور 1600چکن گنیا کے مریضوں کے داخل ہونےکی جانکاری محکمہ صحت عامہ کے اعداد وشمارات سے ملتی ہے۔ ان اعدادو شمارات پر غورکریں تو پتہ چلتاہے کہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہونا تشویشنا ک ہے۔ اسی پس منظر کو دھیان میں رکھتے ہوئے عوام میں مچھروں اور دیگر بیماریوں کے جراثیم کو ماحولیات سے دور کرنے کے لئے مخصوص پودوں کی نصب کاری کرکے صحت مند ماحول پیدا کرنے کی ترغیب دینا ہی مہم کی خاص غرض وغایت ہونےکی بات کہی ۔ عوام ان پودوں کے متعلق محکمہ آیوش اور باغبانی سے جانکاری حاصل کرسکتے ہیں، صرف جانکاری نہیں بلکہ ان پودوں کو حاصل کرکے اپنے گھر کے صحن ، ماحول وغیرہ میں نصب کرسکتے ہیں۔ خانگی نرسری بھی ان پودوں کی زراعت کرکے عوام کو بیچنے کے ساتھ منافع بھی کما سکتے ہیں۔ گرام پنچایت، بلدیہ وغیرہ کے باغوں میں ، عوامی جگہوں پر ، سڑکوں کے کنارے ان پودوں کو لگا کر عوامی صحت کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ محکمہ آیوش کی طرف سے ریاستی حکومت کو دی گئی پیش کش میں گھروں، باغوں اوربالائی منزلوں میں بھی ان پودوں کی پرورش کئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔